سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیںتو اس کے شہر میںکچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سےسو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کیسو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سناContinue reading “Faraz Ahmad Faraz”
