Faraz Ahmad Faraz

سنا ہے لوگ اُسے آنكھ بھر كے دیكھتے ہیںتو اس کے شہر میں‌کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سےسو اپنے آپ کو برباد کرکے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشمِ ناز اس کیسو ہم بھی اس کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سناContinue reading “Faraz Ahmad Faraz”

Design a site like this with WordPress.com
Get started